ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / 11مارچ کے بعد نئی پارٹی بنائیں گے، ہمارے لوگوں کے ٹکٹ کاٹے گئے:شیوپال

11مارچ کے بعد نئی پارٹی بنائیں گے، ہمارے لوگوں کے ٹکٹ کاٹے گئے:شیوپال

Tue, 31 Jan 2017 22:12:57    S.O. News Service

نئی دہلی،31/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سماج وادی پارٹی میں کنارے لگائے گئے شیو پال یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11/مارچ کے بعد نئی پارٹی کی تشکیل کریں گے۔انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے حامیوں کے ٹکٹ کاٹ دئیے گئے ہیں، اب یہ لوگ کہاں جائیں گے۔اس درمیان اس بات کی بھی قیاس آرائی لگائی جا رہی ہے کہ اس بار وہ اپنی روایتی سیٹ جسونت نگر سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑیں گے، حالانکہ انہوں نے ابھی تک یہی کہا ہے کہ یہ سب افواہیں ہیں اور وہ سماج وادی پارٹی کے انتخابی  نشان سائیکل سے ہی الیکشن لڑیں گے۔دراصل سماج وادی پارٹی کی کمان پوری طرح اکھلیش یادو کے ہاتھوں میں آنے کے بعد شیو پال یادو کو پارٹی میں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔دراصل جب وہ پارٹی کے ریاستی صدر تھے، تو انہوں نے ملائم سنگھ کے ساتھ مل کر دسمبر میں امیدواروں کی فہرست جاری کی تھی، اس کے بعد پارٹی میں زبردست اختلافات کے بعد حتمی طور پر جب کمان اکھلیش کو ملی، تو انہوں نے اس فہرست کو مسترد کر دیا اور اپنی نئی فہرست جاری کی.۔ اس کے بعد شیو پال اورملائم  حامیوں کے ٹکٹ کاٹ کر اکھلیش نے اپنے حامیوں کو ٹکٹ دے دیا۔باپ -بیٹے میں صلح ہونے کے بعد ملائم نے اپنے 38حامیوں کی فہرست اکھلیش کو سونپی تھی، لیکن اکھلیش نے ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیا.۔ملائم نے جب پہلی بار یہ 38نام دیئے تھے، تب اس میں شیو پال کا نام نہیں تھا اور ان کی جگہ ان کے بیٹے آدتیہ کا نام تھا، بعد میں شیو پال کا نام اس میں شامل کر دیا گیا، شیو پال یادو اٹاوہ کی جسونت نگر سیٹ سے الیکشن لڑتے رہے ہیں۔
حالانکہ اب ایس پی- کانگریس کا اتحاد ہونے کے بعد بھی سیاسی منظرنامہ بدل گیا ہے۔ملائم نے اس اتحاد کی کھلے طور پرمخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی حمایت میں انتخابی مہم نہیں کریں گے۔ملائم خیمے کا خیال ہے کہ اس سے ان کے حامیوں کا نقصان ہوگا اور پارٹی کارکنان کانگریس کو دی گئی سیٹوں پر الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔انہوں نے اپنے حامیوں اور اکھلیش کے باغیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ کانگریس کی سیٹوں پر آزاد امیدوار کے طور پر اتریں اور وہ ان کی حمایت کریں گے۔شیو پال کی ناراضگی کو ملائم کے اس اعلان سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شیو پال نے یہ کہا بھی ہے کہ ان کے حامی اگر ان کو تشہیر کے لیے بلائیں گے، تو وہ ان کی تشہیر کرنے جائیں گے، یعنی صاف ہے کہ ملائم-شیو پال کے کئی حامی، جنہوں نے اکھلیش سے ناراضگی کی وجہ پارٹی چھوڑدی ہے، شیوپال ان کے لیے تشہیر کرنے جائیں گے۔قابل ذکر ہے کہ کچھ وقت پہلے ایس پی میں یادو خاندان کے درمیان زبردست محاذآرائی ہوئی تھی، اس دوران پارٹی دوخیموں میں تقسیم ہو گئی تھی، ایک طرف ملائم سنگھ یادو اور شیو پال یادو تھے، تو دوسری طرف اکھلیش یادو اور رام گوپال تھے۔اس کا نتیجہ ایس پی میں تختہ پلٹ کی شکل میں سامنے آیا۔اکھلیش یادو کو پارٹی کا قومی صدر بنا دیا گیا، شیو پال یادو کو پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا، انتخابی نشان پر قبضے کی لڑائی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس پہنچا، الیکشن کمیشن کے اکھلیش کے حق میں فیصلہ دینے کے بعد ایک طرف سے ان کو قانونی منظوری مل گئی۔
 


Share: